الحمد للہ! دینی مدارس امتِ مسلمہ کے ایمان، عقیدہ اور اخلاق کی حفاظت کا مضبوط قلعہ ہیں۔ یہ مقدس ادارے نسلِ نو کو قرآن و سنت کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ ان اداروں میں مصروف علماء و طلباء دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کئے ہوئے ہیں، اور ان کی خدمت ایک عظیم نیکی ہے۔
وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ ٱللَّهِ ۚ وَمَا
تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
"جو مال تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو، اللہ اُس کا پورا بدلہ
دے گا، اور تم پر ظلم نہ کیا جائے گا۔"
(سورۃ البقرہ: 272)
إِذَا مَاتَ الإِنسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ
(صحيح مسلم، رقم الحدیث: 1631)
"جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔"
(صحیح مسلم)
(دنیا میں یا تو عالم بنو، یا طالب علم، یا علم والوں سے محبت کرنے والے، یا ان کے خادم، اور پانچواں (یعنی ان سے بے تعلق) نہ بنو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔) (شعب الإيمان للبيهقي)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ علم و اہلِ علم سے تعلق رکھنا ہدایت و نجات کا ذریعہ ہے، خواہ وہ محبت کی صورت میں ہو یا خدمت کی شکل میں۔ علم والوں سے محبت رکھنا اور ان کی خدمت کرنا ایمان کی علامت ہے۔ جو شخص علم دین کے طالب و معلم کی مدد کرتا ہے، گویا وہ دین کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے۔ آئیں! علمِ دین کی شمع کو روشن رکھنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ آپ کا عطیہ صرف مالی مدد نہیں بلکہ صدقۂ جاریہ ہے جو آپ کے لیے دنیا و آخرت میں یقیناً نفع بخش ثابت ہو گا
جامعہ بنات عائشہ، ڈھوک حاجی خالقداد، نیو چاکرہ روڈ، راولپنڈی میں واقع ایک معتبر اور قدیم ادارہ ہے، جو ایک طویل عرصے سے طالبات کو قرآن و سنت کی روشنی میں دینی تعلیم و تربیت فراہم کر رہا ہے۔ اس جامعہ سے اب تک سینکڑوں بچیاں فارغ التحصیل ہو چکی ہیں، جو زندگی کے مختلف شعبہ جات میں دینی خدمات انجام دے رہی ہیں۔